12 جولائی 2013 - 19:30
افطار کے وقت صدقہ دینے کا ثواب

قال الإمام الرضا علیه‏السلام: مَن تَصَدَّقَ وَقتَ إفطارِهِ عَلى مِسكینٍ بِرَغیفٍ، غَفَرَ الله‏ُ لَهُ ذَنبَهُ، و كَتَبَ لَهُ ثَوابَ عِتقِ رَقَبَةٍ مِن وُلدِ إسماعیلَ(۱)جو شخص افطار کرنے سے پہلے ایک ٹکڑا روٹی کا کسی مسکین کو صدقہ دے گا خداوند عالم اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا اور اس کے حق میں اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام کے آزاد کونے کا ثواب لکھے گا۔- قال الإمام الصادق علیه‏السلام: كانَ عَلِیُّ بنُ الحُسَینِ علیهماالسلام إذا كانَ الیَومُ الَّذی یَصومُ فیهِ أمَرَ بِشاةٍ فَتُذبَحُ و تُقطَعُ أعضاءً و تُطبَخُ، فَإِذا كانَ عِندَ المَساءِ أكَبَّ عَلَى القُدورِ حَتّى یَجِدَ ریحَ المَرَقِ و هُوَ صائِمٌ، ثُمَّ یَقولُ: «هاتُوا القِصاعَ، اِغرِفوا لاِلِ فُلانٍ وَاغرِفوا لاِلِ فُلانٍ»، ثُمَّ یُؤتى بِخُبزٍ و تَمرٍ فَیَكونُ ذلِكَ عَشاءَهُ، صَلَّى الله‏ُ عَلَیهِ و عَلى آبائِهِ(۲)امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: امام سجاد علیہ السلام ہر روز جب روزہ رکھتے تھے حکم دیتے تھے کہ ایک گوسفند کو ذبح کیا جائے اور اسے کاٹ کر پکایا جائے اور جب عصر کا وقت ہوتا تھا دیگ پر جھک کر اس کی خوشبو سونگھتے تھے اس کے بعد حکم دیتے تھے کہ برتن لائے جائیں اور فلاں گھر والوں کے لیے، فلاں گھر والوں کے لیے نکالا جائے ۔ [ تمام کھانے کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا تھا] اس کے بعد خشک روٹی اور خرما لایا جاتا تھا آپ اس سے افطار فرماتے تھے۔ اور یہی آپ کا کھانا ہوتا تھا۔ اللہ کا درود ہو آپ اور آپ کے پاک آباو و اجداد پر۔

.....

/169